10 جولائی 2012 - 19:30

سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں آل سعود کے جرائم کے خلاف عوام کے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے -

ابنا: سعودعرب ميں شاہي حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بدستوري جاري ہے اور ملک کے مشرقي علاقوں کے شہريوں نے القطيف اور عواميہ شہر ميں منگل اور بدھ کي درمياني شب بھي مظاہرے کئے ہيں-

مظاہرين نے عام شہريوں  کے خلاف سعودي سيکورٹي اہلکاروں کے پر تشدد اقدامات کي مذمت ميں نعرے لگائے- سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں مظاہرين نے  ملک ميں جمہوريت کے قيام اور شاہي خاندان کي سر نگوني کا مطالبہ بھي دوہرايا-  

ايک اطلاع يہ ہے کہ اتوار کے روز سرکردہ عالم دين آيت اللہ نمر باقر النمر کي گرفتاري کے خلاف  مظاہروں ميں شريک لوگوں پر سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ ميں شہيد ہونے والے دوافراد کي تدفين کردي گئي ہے-  ان شہيدوں کے جنازے  ميں ہزاروں  کي تعداد ميں لوگ شريک ہوئے-

  ياد رہے کہ آيت اللہ نمرباقر النمر کي گرفتاري کے خلاف ملک کے مشرقي علاقوں کے لوگ پر امن احتجاج کر رہے تھے کہ سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے ان پر براہ راست فائرنگ کردي تھي- اس حملے ميں تين  شہري شہيد ہوگئے تھے-

   سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں گزشتہ ايک سال سے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے  تاہم آيت للہ نمر پر سعودي سيکورٹي فورس کے حملے اور گرفتاري کے بعد مظاہروں ميں شدت پيدا ہوگئي ہے-دوسري جانب سعودي عرب کي صورتحال کشيدہ ہوجانے کے بعد سي آئي اے  کے سربراہ نے اس ملک کے ولي عہد سے ملاقات اور گفتگو کي ہے-

سرکاري ٹي وي  کے مطابق سي آئي اے کے سربراہ ڈيوڈ پيٹريئس نے جدہ ميں ولي عہد سلمان بن عبدالعزيز  آل سعود سے ملاقات کي جس ميں ملکي صورتحال اور  رياض  اور واشنگٹن  کے درميان تعاون بڑھانے کي راہوں کا جائزہ ليا گيا- سي آئي اے کے سربراہ نے اس سے قبل پير کے روز  ملک کے قريب المرگ  بادشاہ ملک عبداللہ سے بھي ملاقات اور گفتگو کي تھي-

درايں اثنا الحرمين نامي ويب سائٹ نے امريکي اور سعودي حکام کے درميان خفيہ اور ظاہري ملاقاتوں کا حوالہ ديتے ہوئے لکھا ہے کہ يہ ملاقاتيں سعودي عرب  کي اندروني صورتحال کے بارے ميں امريکہ کو لاحق پريشاني کي علامت ہيں-

سرزمين حجاز کے شہري ملک ميں  سياسي اصلاحات ، آزادي  اظہار کا حق ديئے جانے، سياسي قيديوں کي رہائي  اور مذہبي بنيادوں پر روا رکھے جانے والے امتيازي سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر تے چلے آرہے ہيں-.......

/169